قانونی مشورے
میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
(ن ۔م) ہارون آباد
سوال: وکیل صاحب میرا شوہر قتل کے مقدمے میں سزائے موت کی سزا ملنے کے بعد اب جیل میں ہے۔میری کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔ میرا شوہر واقعی قاتل ہے اُس نے کسی بے گناہ کا ناحق خون کیا ہے۔ میں اُس شخص کی بیوی نہیں کہلوانا چاہتی۔ کیا میں اُس سے خُلہ لے سکتی ہوں۔
جواب۔ محترمہ: با لکل آپ اپنی زندگی برباد نہ کریں۔آپ فیملی کورٹ میں تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کریں۔ عدالت سمن جاری کرکے گوا ہان اور آپکے بیان کی روشنی میںآپکے حق میں ڈگری جاری کردے گی۔ اور اُس کی پھر توثیق تین ماہ کے اند راندر
آپ کے علاقے کی متعلقہ یونین کونسل سے ہو گی۔ بعدازاں یونین کونسل آپ کو طلاق کا سرٹیفیکیٹ جاری کردے گی۔
رابعہ (مظفرآباد آزاد کشمیر)
سوال۔ وکیل صاحب میرے والد کی جب وفات ہوئی ہے ،تو اُن کے ترکے میں کافی جائیداد ہے۔ اب میں نے اپنے بھائیوں سے ترکے میں سے اپنا حصہ مانگا ہے تو اُنھوں نے صاف انکار کردیا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ ہم نے تمھاری شادی پر کافی خرچہ کر دیا تھا۔ میں اپنا حصہ کیسے حاصل کر سکتی ہوں۔
جواب۔ محترمہ نومبر 2011 میں خواتین دشمن روایات کے امتناع کا ایکٹ منظور ہوا ہے۔ اس کے تحت ترکہ میں سے بیٹی کا حصہ جو بنتا ہو وہ اگر کوئی نہ دے تو اس کو کریمنل جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کی سزا 10سال اور جرمانہ 10 لاکھ روپے ہے۔ آپ اس سلسلے میں اپنے علاقے کے پولیس اسٹیشن میں تمام واقعات لکھ کر ایک درخواست دیں ۔ پولیس اس حوالے سے عدالت کے ذریعہ سے آپ کو اپنا حق دلوا کر دے گی۔
شکیلہ داود( کامونکی)
سوال۔ وکیل صاحب ہمارے محلے میں ایک سال کا بائیس ، پچیس سال کا نوجوان ہے ۔جو ہر وقت اونچی آواز میں گانے لگا کر سنتا رہتا ہے۔ اُسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی مریض تکلیف میں ہے یا کوئی نماز پڑھ رہا ہے ۔یا کوئی طالبعلم پڑھائی میں مشغول ہے۔ اسے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ہم بہت تنگ ہیں اس مسلئے کا کیا حل ہے۔
جواب۔ محترمہ : آپ اس کے حل کے لیے اہل محلہ کے ساتھ مل کر ایک درخواست اپنے علاقے کے پولیس اسٹیشن میں دیں۔ پولیس اس شور کی آلودگی سے آپ کی جان چھڑا دے گی۔
نام ومقام نہیں لکھا۔
سوال۔جناب وکیل صاحب میں فورتھ ائر کی سٹوڈنٹ ہوں جب میں کالج جاتی ہو ں تو دو اوباش نوجوان میرا پیچھا کرتے ہیں اور راستے میں مجھے تنگ کرتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اپنے گھر والوں کو بتا یا تو وہ مجھے پڑھائی کرنے سے روک دیں گے میں کیا کروں۔
جواب۔آپ بیٹا ہمت کرکے اپنی کسی دوست کے ذریعے سے اپنا یہ مسئلہ اپنی والدہ کے سامنے رکھیں۔وہ آپ کے والد صاحب کو حکمت عملی سے بتاکر پولیس کو درخواست دے کر اُن اوباشوں سے آپ کی جان چھڑا دیں گی۔
سوال۔ وکیل صاحب میرے والد نے میری والدہ کو محلے داروں کے سامنے واشگاف اعلان کیا ہے کہ میں اِسے تین بار طلاق دے چکا ہوں۔ یہ اب میری بیوی نہیں ہے۔ اس حوالے سے شریعت اور ملکی قانون کیا کہتا ہے۔
جواب۔ شریعت کی رو سے جب کوئی شخص اس طرح کا اظہار کرتا ہے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لیکن ہمارے ملکی قانون کے مطابق طلاق اُس وقت واقع ہو گی جب یونین کونسل کے ذریعے سے نوٹس جاری ہو اور اس حوالے سے نوے روز کے دوران تین مرتبہ فریقین کو مصالحت کا موقعہ فراہم کیا جاتا ہے۔تب اگر مصالحتی کوششیں ناکا م ہو جائیں یعنی صلح نہ ہو سکے تو تب مصالحتی کونسل طلاق موثر ہوجانے کا سرٹفکیٹ جاری کردیتی ہے۔
سوال۔ وکیل صاحب ۔میرے والد صاحب ایک دکان پر کام کرتے تھے۔دکاندار نے میرے ابو کو ضامن بنا کر کسی شخص سے ڈیڑھ لا کھ روپے قرض لیے تھے۔اب وہ دوکاندار کافی دنوں سے غائب ہے
جس شخص نے قرض دیا تھا وہ اب میرے والد کے پیچھے پڑا ہو ا ہے ہم غریب لوگ ہیں اتنی رقم کہاں سے لا کردیں۔
جواب۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں آپ اپنے والد صاحب کوایک درخواست جس میں تما م حالات و واقعات لکھے ہوں کے ساتھ اپنے علاقے کے تھانے میں بھیج د یں ۔ ایس ایچ او تھانہ متعلقہ شخص یا اُسکے اہل خانہ کو طلب کرکے معاملہ حل کروادیں گے۔